ایک بچے کا عزم
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiگرچہ اک ننھا سا بچہ ہوں نِرالا
پر میرا تو عزم ہے سب سے دو بالا
علم کی مجھ کو لگن ہر دم ہے رہتی
شَمْع سے پروانے کو جیسے چَاہ ہوتی
علم سے تو دور ہو ظلمت جہاں میں
علم سے سب کو ملے رفعت جہاں میں
میرے دم سے اس جہاں میں روشنی ہو
اس چمن کی ہر کلی تو بس کھلی ہو
حق کی میں آواز دنیا میں بنوں گا
نہ کبھی مظلوم کی تو آہ لوں گا
خیر کے ہر کام میں ہوگا تعاون
ہر کسی کے لب پہ ہوگا میرا ہی گُن
ہر میرا قول و عمل ہوگا مُوَافِق
نہ کبھی ظاہر کو ہو باطن سے تو دِق
میں تو اوروں سے رہوں گا آگے آگے
یہ زمانہ بھی چلے گا میرے پیچھے
میں دلوں میں ہر کسی کے ہی بسوں گا
ہر دکھے دل کی دوا میں ہی بنوں گا
میں چراغ رہگزر بن کر رہوں گا
میں تو خِضْرِ راہ بن کر ہی جیوں گا
میرا انداز بیاں ہوگا ہی پیارا
جو بنا دے گا ہی سب کا تو دلارا
نہ زیاں ہوگا کسی کا تو گوارا
دل دکھانے سے بچے گا یہ دلارا
اور تخیل کی بلندی یوں رہے گی
میری منزل میرے قدموں میں گرے گی
مجھ کو نیکی سے محبت ہی رہے گی
عاجِزِی میرا تو پَیراہَن بنے گی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






