ایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPKایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی۔
مگر کیا کیجیئے کہ ان بن گذارا نہین کوئی۔
وہ زخم دیے جہان نے کہ گنتی مین نہین آتے۔
وہ سزا ملی پیار کی جس کا شمارہ نہین کوئی۔
اس دل کو اس کی یاد نے مار رکھا ھے۔
اور ما سوا تڑپنے کے بھی چارہ نہین کوئی۔
ہم مانتے ہین کہ ساری خطا اپنے دل کی ھے۔
اس مین کوئی بھی دوش اس کا نہین کوئی۔
ہین یتیمان عشق ہم سے کئی اور بھی دنیا مین۔
جن کا والی وارث جہان مین سہارہ نہین کوئی۔
جان چھڑکتا ھے دل اس پر ہر پل ہرگھڑی۔
پھر کہتا ھے کمبخت ہمین پیارا نہین کوئی
نظرین جھکانہ شرمانہ اور پھر مسکرا دے نا۔
کیا یہ سیدھی الفت درشاتا اشارہ نہین کوئی؟۔
وہ جو تختیئے عشق پر کندہ نہ ہو سکا۔
ایک اکیلا دنیا مین نام تمہارا نہین کوئی۔۔
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






