اک مان ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاک مان ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
رشتوں سے ایمان
چھوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
پھولوں کا گلدان
ٹوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
دعاوں سے اک انسان
روٹھا ہیں بس اور کچھ نہیں
ہاتھوں سے اک ہاتھ
چھوٹا ہیں بس اور کچھ نہیں
فلک کو دیکھ کر اب
کوئی روتا ہیں بس اور کچھ نہیں
آنسو پلکوں تک آتا ہیں اور
کہیں کھوں جاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
کوئی لفظ محبت لکھ لکھ کر
مٹاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
صحرا میں جام پایا اور
منہ تک لا کرکوئی
گراتا ہیں بس اور کچھ نہیں
مٹی سے گھر بنایا تھا کبھی
اور مٹی میں کوئی
ملاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
دل میں جلتے ُامید کے دیے
کوئی بھجاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
موت سے جو ڈرتا تھا کبھی
آج موت کو دیکھ کر کوئی
بانہیں پھلاتا ہیں بس اور کچھ نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






