اپنے وطن کو بچاؤ لوگو
Poet: purki By: m.hassan, karachiقادری نےکیا خوب کہا ہے لوگو
ترقی حکمرانوں کی نہیں
ہماری ضرورت ہے لوگو
انصاف حکمرانوں کا مطالبہ نہیں
ہمارا مطالبہ ہے لوگو
بےروزگاری حکمرانوں کا مسئلہ نہیں
ہمارا مسئلہ ہے لوگو
کرپشن حکمرانوں کے لئے مسئلہ نہیں
ہمارا مسئلہ ہے لوگو
بھتّہ خوری حکمرانوں کا سردرد نہیں
ہمارا سر درد ہے لوگو
رشوت خوری کو روکنا حکمرانوں کا ماٹو نہیں
ہمارا ماٹو ہے لوگو
کمیشن خوروں کو لگام دینا حکمرانوں کا مقصد نہیں
ہمارا مقصد ہے لوگو
قاتلوں کو پھانسی دینا حکمرانوں کا منشور نہیں
قرآن کا منشور ہے لوگو
انسانوں کو متحد کرنا حکمرانوں کا درس نہیں
قرآن کا درس ہے لوگو
منافع خوروں کو سزا دینا حکمرانوں کا قانون نہیں
اسلام کا قانون ہے لوگو
مظلوموں کو انصاف دلانا حکمرانوں کا تقاضا نہیں
شریعت کا تقاضا ہے لوگو
ملک کو لٹیروں سے نجات دلانا حکمرانوں کا کام نہیں
کیونکہ وہ خود لٹیرے ہیں لوگو
علم کی روشنی پھیلانا حکمرانوں کا مشن نہیں
کیونکہ وو خود اندھیرے پھیلاتے کے ماہر ہیں لوگو
الیکشن کو فری اینڈ فیئر بنانا حکمرانوں کا خواب نہیں
ہمارا خواب ہے لوگو
پیارے وطن کو بچانا حکمرانوں کی تمنّا نہیں
ہماری تمنّا ہے لوگو
اگر ہم نے اس دھرتی کو بچانا ہے تو حکمرانوں کے چالوں سے بچو
اچھے اور متّقی لوگوں کا چناؤ کرو لوگو
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






