التجاء
Poet: Syed Akabar Hussain Shah By: Syed Akabar Hussain Shah, Rawalpindiزندگی کے شب و روز میں تم روز مجھ سے ملا کرو
جو میں پھر سے تم کو خفا کروں تو جائز ہے مجھ سے گلہ کرو
میں پھر سے تنہا ہوں دشت میں، میرے سر پہ دست کرم دھرو
میں اب وہی ہوں “چاند“ سا! مجھ پہ تھوڑا رحم کرو
تیری پاکدامنی کی قسم مجھے، جو مجھے تجھ پہ ذرا بھی گمان ہو
تو میری حیات ہے بخدا، نہ مجھ کو خود سے جدا کرو
جانتا ہوں مجبور ہو! یہ امتحان عشق ہے
تجھے واسطہ میری جان کا، میری مشکلوں کو وا کرو
تیری راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں تو ہٹا انہیں
میں نے خود کو تجھ پہ لٹا دیا، مجھے اسکا تھوڑا صلہ دو
اس وقت بھی کئی لوگ ہیں جو روکتے ہیں بے وجہ
تجھے مجھ پہ پورا یقین ہے، تم ان کی نہ سنا کرو
اکابر کو دعا ہے ماں کی یہ نہ زندگی میں ہارے کبھی
میں تم کو جیت لوں جہان سے، تم میرے لئے دعا کرو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






