اشتباہ نظر
Poet: BholayBhai By: BholayBhai, Gujranwalaآج پھر بھٹک رہا ہوں میں
یہاں سے وہاںِ، اکیلا، اداس اور پریشاں
سچ کی جستجو میں سرگرداں
پھر وہی سوالِ جان گسل
پھر وہی معمہ لا ینحل
میں اک سراب ہی ہوں، چلو یہ مانتا ہوں میں
پر کسی تشنہ لب کو کب پکارتا ہوں میں
خود اپنی تسکین تشنگی کے لیے
جب کوئی بن بلائے آتا ہے
میں اسے مان کر رحمت خداوندی
میزبانی کے فرض کی خاطر
اپنے بازو پھیلائے جیسے ہی
اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوں
وہ یکایک ٹھٹھک سا جاتا ہے
اس کی آنکھوں میں اپنے پن کی جگہ
ایک بیگانگی امڈتی ہے
اس کے چہرے کی مسکان دلآویز
ایک بیزار زاویے میں ڈھلتی ہے
میری تنہائیوں سے بے پرواہ
اپنے قدموں کا رخ بدلتے ہوئے
پھر پلٹ کے نفرت سے مجھ کو تکتے ہوئے
پوری سفاکی و بے رحمی سے
اپنا جرم اشتباہ نظر
کیوں میرے سر تھوپ جاتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






