اس کے الفاظ وہ اس کے لہجے کا سراب
Poet: Faisal Yaqoob Arab By: Faisal Yaqoob Arab, Karachi
اس کے الفاظ وہ اس کے لہجے کا سراب
جینے نہیں دیتے جاگتی آنکھوں کے خواب
الفاظ کے جیسے دھیمی برسات کی جھلمل
وہ لہجہ کے مانند رنگ و بوئے گلاب
اپنے الفاظ سے میری سماعتوں کو دوام دے
گرچہ دہن کا گلاب ہو یا لہجہ کا عتاب
حسن و جوانی پہ بہت نازاں ہیں اپنی ماہ و آفتاب
گہن لگ جائے جب مگر کہاں رہتی ہے آب و تاب
جیتا ہوں تو مرتا ہوں مرتا ہوں تو جیتا ہوں
جانے کس موڑ پہ لایا ہے زندگی کا باب
سانس بھی آتی ہے مگر جاتا ہے حوصلہ
جیسے قضا کیلئے تڑپتا ہے ماہی بے آب
بے درد زمانے نے رسوا ہے بہت کیا
سنگ برسائے بے حد گھائل کیا بے حساب
غم دوراں سے اب تو نڈھال ہو گیا ہوں
ماند پڑ گیا ہے میرا حسن و شباب
اے خدا اپنے عرفان کا پردہ اٹھا دے اب تو
میں تیرا بندہ ہوں پھر کیوں رہے یہ حجاب
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






