اس سے پہلے کہ يہ دنيا مجھے رسوا کر دے
Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIاس سے پہلے کہ يہ دنيا مجھے رسوا کر دے
تو ميرے جسم ميری روح کو اچھا کر دے
کس قدر ٹوٹ رہی ہے ميری وحدت مجھ سے
اے ميری وحدتوں والے مجھے يکجا کر دے
يہ جو حالت ہے ميری ميں نے بنائ ہے مگر
جيسا تو چاہتا ہے اب مجھے ويسا کر دے
ميرے ہر فيصلے ميں تيری رضا شامل ہو
جو تيرا حکم ہو وہ ميرا ارادہ کر دے
مجھ کو وہ علم سکھا جس سے اجالے پھيلے
مجھ کو وہ اسم پڑھا جو مجھے ذندہ کر دے
ضائع ہونے سے بچا لے ميرے محبوب مجھے
يہ نہ ہو وقت مجھے کھيل تماشا کر دے
ميں مسافر ہوں سو رستے مجھے راس آۓ ہيں
ميری منزل کو ميرے واسطے رستہ کر دے
ميری آواز تيری حمد سے لبريز رھے
بزم کونين ميں جاری ميرا نغمہ کر دے
اس سے پہلے کہ يہ دنيا مجھے رسوا کر دے
تو ميرے جسم ميری روح کو اچھا کر دے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






