اداسیوں میں تو دل اداس ہوتا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreاداسیوں میں تو یہ دل اداس ہوتا ہے
خوشی کے بعد مگر کیوں دل اداس ہوتا ہے
کسی کا دل دکھا کہ دل اداس ہوتا ہے
اور کبھی مسکرا کے دل اداس ہوتا ہے
کبھی دامن بچا کے دل اداس ہوتا ہے
کبھی دل کو لگا کر دل اداس ہوتا ہے
کبھی نظریں چرا کر دل اداس ہوتا ہے
کبھی نظریں ملا کر دل اداس ہوتا ہے
آنکھوں میں نمی نہ رہے تو دل اداس ہوتا ہے
اور آنکھیں جو بھر آئیں تو دل اداس ہوتا ہے
دل دل سے نہ مل پائے تو دل اداس ہوتا ہے
اور جو نہیں مل پائے تو بھی دل اداس ہوتا ہے
گر دل سکوں نہ پائے تو دل اداس ہوتا ہے
اور جو سکوں پا جائے تو دل اداس ہوتا ہے
کوئی کسی سے روٹھے تو دل اداس ہوتا ہے
اور کوئی مان جائے تو بھی دل اداس ہوتا ہے
کوئی ہم نوا نہیں ملے تو دل اداس ہوتا ہے
اور ہم نوا مل جائے تو بھی دل اداس ہوتا ہے
کچھ ان کہی رہ جائے تو دل اداس ہوتا ہے
اور کہہ دی جائے تو بھی دل اداس ہوتا ہے
اداسیوں میں تو ہر دل اداس ہوتا ہے
خوشی کے بعد مگر کیوں دل اداس ہوتا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






