اب کے لگتا ہے جاں سے گُزرنا ہوگا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاب کے لگتا ہے جاں سے گُزرنا ہوگا
دلِ ناداں تجھے ٹُکڑوں میں بکھرنا ہوگا
تیرا کام ہے کیا خوشبو کے جزیروں پر
موجِ رواں تجھ کو سمندر میں اُترنا ہوگا
اشک شُوئی سے کچھ بھی نہ ہوا حاصل
خونِ جگر، جو کرناہے تجھے ہی کرنا ہوگا
آج کی شب بھی کٹی ہے آہوں میں
اب کے ہرشب کو یوں ہی گُزرنا ہوگا
درد کا سورج بھی ڈھل جائے گا اِک دن
شبِ ظلمت میں میرے چاند کو اُبھرنا ہوگا
ترک تعلق سے بھی ٹوٹا نہیں اُمید کا کانچ
جب کے معلوم ہے وہ میرا منتظر نا ہوگا
میرا ہے ارماں کہ تیری دہلیز پہ دم نکلے
یہ اور بات ہے کہ تونے ملنا ہی اَگر نا ہوگا
ایک مدت سے حراساں کیے رکھا ہے مجھے
اب کے دنیا کو عتا ب ِ جَنوں سےڈرنا ہوگا
اب وہ آنکھیں ہی کسی اور کی امانت ہیں
اب یہاں کس کے لیے سجنا سنورنا ہوگا
لمبی مسافت ہے اور تھکن سے چوُر رضا
کسی موڑ پہ کچھ دیر تو اب ٹھہرنا ہوگا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






