آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا
Poet: Rajindar By: daniyal, Mumbai
آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا
اپنی زلفوں کو سنوارو گے تو یاد آؤں گا
رنگ کیسا ہو یہ سوچو گے تو یاد آؤں گا
جب نیا سوٹ خریدو گے تو یاد آؤں گا
بھول جانا مجھے آسان نہیں ہے اتنا
جب مجھے بھولنا چاہو گے تو یاد آؤں گا
دھیان جائے گا بہرحال مری ہی جانب
تم جو پوجا میں بھی بیٹھو گے تو یاد آؤں گا
ایک دن بھیگے تھے برسات میں ہم تم دونوں
اب جو برسات میں بھیگو گے تو یاد آؤں گا
چاندنی رات میں پھولوں کی سہانی رت میں
جب کبھی سیر کو نکلو گے تو یاد آؤں گا
جن میں مل جاتے تھے ہم تم کبھی آتے جاتے
جب بھی ان گلیوں سے گزرو گے تو یاد آؤں گا
یاد آؤں گا اداسی کی جو رت آئے گی
جب کوئی جشن مناؤ گے تو یاد آؤں گا
شیلف میں رکھی ہوئی اپنی کتابوں میں سے
کوئی دیوان اٹھاؤ گے تو یاد آؤں گا
شمع کی لو پہ سر شام سلگتے جلتے
کسی پروانے کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
جب کسی پھول پہ غش ہوتی ہوئی بلبل کو
صحن گلزار میں دیکھو گے تو یاد آؤں گا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






