Ye Zard Mausam Ke Khushk Patte
Poet: SAIF ASHIR By: SAIF ASHIR, IslamabadYe Zard Mausam Ke Khushk Patte
Havaa Jinhe.N Le Ga_Ii U.Daakar
Agar Kabhii In Ko Dekh Paao
To Soch Lenaa
Ki In Me.N Har Barg Ke Namuu Me.N
Ziyaa.N Gayaa Arq Shaakh-E-Gul Kaa
Kabhii Ye Sar_Sabz Ko.Npale.N The
Kabhii Ye Shaadaab Bhii Rahe Hai.N
Khule Huye Ho.Nth Kii Tarah Narm Aur Shaguftaa
Bahut Dino.N Tak
Ye Sabz Patte
Havaa Ke Relo.N Me.N Bebasii Se Ta.Dap Chuke Hai.N
Magar Ab Ye Khushk Ho Rahe Hai.N
Magar Ye Ab Khushk Ho Chuke Hai.N
Agar Kabhii Is Taraf Se Guzaro
To Dekh Lenaa
Barahanaa Shaakhe.N Havaa Ke Dil Me.N Ga.Dii Hu_Ii Hai.N
Ye Ab Tumhaare Liye Nahii.N Hai.N
More Friendship Poetry
دوستی کیلئے ایک نظم وہ مرا بچپن کا رفیق ہے اور بھلا بھی
جیسے مری تقدیر کا ساتھی بھی
میں تنہائی میں بیٹھا لیکن ترے آنے کہ بعد
تصور میں مرے پاس مجمع بھی، اور تو بھی
کڑے وقت میں تو پہنچا بجلی کی طرح
تاریکی میں اگر تو ساتھ ہے، تو نہیں ضرورت اجالے کی بھی
سمجھتا ہوں حق ادا کیا میں نے دوستی کا
زیادہ نہیں تم سے، لیکن نہیں کی کمی میں نے بھی
مکتب اور کہیں جانا ہوتا میں نے اگر
سواری کے بعد ضروری ہے تو بھی
دوست کی طرح نہیں، تو بھائی جیسا ہے تو
خالق نے بھائی نہیں دیا، تو ہے مرا بھائی بھی
زیب، ہم نے بھی کئی لوگوں سے دوستی کی
نہیں دیکھی مثال ایسی دوستی کی بھی
جیسے مری تقدیر کا ساتھی بھی
میں تنہائی میں بیٹھا لیکن ترے آنے کہ بعد
تصور میں مرے پاس مجمع بھی، اور تو بھی
کڑے وقت میں تو پہنچا بجلی کی طرح
تاریکی میں اگر تو ساتھ ہے، تو نہیں ضرورت اجالے کی بھی
سمجھتا ہوں حق ادا کیا میں نے دوستی کا
زیادہ نہیں تم سے، لیکن نہیں کی کمی میں نے بھی
مکتب اور کہیں جانا ہوتا میں نے اگر
سواری کے بعد ضروری ہے تو بھی
دوست کی طرح نہیں، تو بھائی جیسا ہے تو
خالق نے بھائی نہیں دیا، تو ہے مرا بھائی بھی
زیب، ہم نے بھی کئی لوگوں سے دوستی کی
نہیں دیکھی مثال ایسی دوستی کی بھی
Zohaib sarwar
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






