General Poetry, Shayari & Ghazals
General Poetry, Shayari & Ghazals Poetry allows readers to express their inner feelings with the help of beautiful poetry. General Poetry, Shayari & Ghazals shayari and ghazals is popular among people who love to read good poems. You can read 2 and 4 lines Poetry and download General Poetry, Shayari & Ghazals poetry images can easily share it with your loved ones including your friends and family members. Up till, several books have been written on General Poetry, Shayari & Ghazals Shayari. Urdu Ghazal readers have their own choice or preference and here you can read General Poetry, Shayari & Ghazals poetry in Urdu & English from different categories.
- LATEST POETRY
- اردو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
تو نے شو ر بے وجہ مچا ئی ہے
تو کہں مر گیا کو ئی او ر فکر کیا ہم کو
غلط سمجھے سبھی تیرے سگائی ہے
تیری سو چیں ہو ئی الٹی عجب ہے تو
تو کہں اپنے سو چیں تیری پرا ئی ہے
عذاب اُ ترے کہیں نہ ہم پہ خو ف ہے ا ب
ڈرو رب سے غلط تیری نمائی ہے
مرا سم غیر تو چھوڑ ، ان کا دفاع نہ کر
ہمی سب اک تو کیوں سوچیں پرائی ہے
غمِ دل خاکؔ طیبؔ کا بتائے کیا
ہیں اپنے پھر وجہ کیا ؟ کہ جد ا ئی ہے MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
کریں نہ کچھ غریب کے خم کو دیکھ کے تو
نہ کوئی اشک بہتا دیکھ کے غم ان کا
نہ کچھ تم کرتے ان کے نم کو دیکھ کے تو
کوئی تھا مے روٹی ، کوئی دعا کرتا
نہ ہو دکھ تم کو روزی کم کو دیکھ کے تو
نہ سایہ ہے نہ گھر ، دکھ عمر میں اس کی
نہ کھاتے غم دکھی کے دم کو دیکھ کے تو
غریب دکھ میں ہو تو ہنسے امیر اس پر
ہیں ہنستے کیوں غریب پر تم دیکھ کے تو
پریشاں خاکؔ طیبؔ حال مسلم پر
مدد نہ کرتے کیوں د م غم دیکھ کے تو
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
Poetry brings peace, like a Christmas tree
Escape life's troubles, find solace and joy seed
Relieve sorrow, and heart's heavy burden, as you lead
Through verse, speak your heart's desire
And let your soul's deepest longings acquire
So write on, spreading positivity and delight
Poetry's message shines through endless light Sanjha Sanwal
Shaid Such Kaheen Oojhal Mehsoos Hoota Hay
Zulmatoon Kay Saiyay Gehray Ho Gayay Hain
Doosat Bee Dushman Numa Qatal Mehsoos Hoota Hay
Watan Kay Basiyoon Ko Khabar Hay Kiya
Is Ehad Main Sadiq Murgh-E- Bismal Mehsoos Hoota Hay
Sabar, Bardashat Kay Alfaaz Napaid Ho Gayay Hain
Apna Mulk Bee Jhoot-0-Munafqat Ki Mehfil Mehsoos Hoota Hay
Tanqeed-O-Taqleed Kay Mayaar Badal Gayay Hain
Aur Ghuthan Say Doobta Dil Mehsoos Hoot Hay
Hassan Madar-E-Watan Kay Aitomee Asasay Ganwan Na Daina
Amlak Ki Mohabat Ka Labada Zehr-E-Qatal Mehsoos Hoota Hay
Hassan Kayani
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
میرے خیال میں اب تک وہی جمال رہا
میں جانتا ہوں کہ دنیا قریب ہے میرے
مگر نظر میں ہمیشہ تیرا جمال رہا
یہ دل بھی کیا ہے، اسے ایک بار دیکھ لیا
تو پھر تمام ہی لمحے تیرا جمال رہا
سفر طویل تھا، منزل کو پا لیا ہے مگر
میں خود بدل گیا اور یہ جمال رہا
تجھے پکار کے دیکھے گا جب مسعود تو
یہ یہی کہے گا، زمانے پہ تیرا جمال رہا
Mohammed Masood
اِنسانیت کو خود ہی وہ پامال کر چُکے ہوتے ہیں۔
َلب پر دُعا، دِلوں میں ہَوس، آنکھ میں دھُواں،
اَیسے نقاب والے کئی زَخم دے چُکے ہوتے ہیں۔
ظالِم کے ہاتھ چُوم کے کہتا ہے یہ جَہاں،
حق کی صَدا کو لوگ کئی بار دَب چُکے ہوتے ہیں۔
دولت کے شور میں یہ نہیں سُن سکا کوئی،
اِک سادہ دِل کے خواب کہیں مَر چُکے ہوتے ہیں۔
عَدل و کَرم کے نام پہ کرتے ہیں کھیل سَب،
اِحسان جَتانے والے ہی کچھ چھپُا چُکے ہوتے ہیں۔
اِیمان بیچ کر بھی وُہی کہلائے پارسا،
سَچ بولنے والے سزا بُھگت چُکے ہوتے ہیں۔
چہرے پہ نُور، دِل میں مگر تیرگی عَجَب،
اَیسے مُنافِقوں کے ہی قِصّے سُن چُکے ہوتے ہیں۔
مظہرؔ یہ کیسی چال زَمانے نے چَل دی ہے،
اِنسان خود اِنسان سے خائف ہوچُکے ہوتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
سانس کی مُہلت مِلی، خود کو مگر مَبرور ہیں
آئینِ حق سے جو ہَٹے، حَرفِ اَنا میں ڈُوبے سب
اَپنے ہی دَعووں کے اَندر اِس قَدر مَجرور ہیں
دھُوپِ تَقدیر آگہی دے، پھر بھی آنکھیں بَند رَکھیں
راہِ سچ کے مسافر ہی اَکثر ہم سے مَحرور ہیں
مسکراہٹ اوڑھ کر جو زَخم دُنیا کو دِکھائیں
اُن کے سینوں میں چھپُے طوفان کتنے مَسرور ہیں
حق کہہ دینے کی سَزا یہ ہے کہ تنہا ہو گئے
بَزم میں سب ساتھ ہیں، ہم ہی یہاں مَفرور ہیں
نان و دُنیا کے لیے بِک جائیں جب ضَمیر بھی
پھر گھروں میں بھی رَہیں تو رُوح کے تَندور ہیں
خُونِ دِل سے جو لِکھا سچ، وُہی ٹھہرا مُعتبِر
رَسم کے رَنگوں میں ڈُوبے لفظ سب سَندور ہیں
مظہرؔ آئینہ یہی ہے چند روزہ زیست کا
جو خُدا کو بھُول بیٹھے، وُہی سب سے مَغرور ہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
یا دھونے کی چہرہ نہانے کی فرصت
میں کب سے کھڑا ہوں یہ لیلیٰ سے پوچھو
نہیں جس کو نظریں ملانے کی فرصت
پری روم میں اب میوزک لگا کر
کہے گی نہیں ہے ستانے کی فرصت
پڑوسی کے گھر میں ہے چکر تمھارا
نہیں اپنے گھر کو بسانے کی فرصت
جو کل رات سے مجھ سے روٹھی ہے دھڑکن
اسے بھی نہیں ہے منانے کی فرصت
وہاں ساس اپنی بہو سے ہے جھگڑے
کسی کو نہیں ہے چھڑانے کی فرصت
اسے چور نظروں سے دیکھو نہ ایسے
جسے گھر میں آنے نہ جانے کی فرصت
ملے گی نہ عامر کو باتوں سے فرصت
نہ باطن کو اپنے چھپانے کی فرصت Amir Saqlain
General Poetry in Urdu
User Reviews
Life is a journey with moments that shine bright, Each day brings new hopes, as dark fades to light. We stumble, we rise, through joy and through strife, But every step we take adds meaning to life.
- Sheeza , Karachi
This page has a diverse collection of poems on various topics, making it a good place for readers with broad interests in poetry.
- Kamran , Islamabad
Labor Day poetry often celebrates the hard work, struggles, and triumphs of the labor movement. Many poems focus on the dignity of work, the importance of worker solidarity, and the need for justice in the workplace
- Shahzaib , Karachi



