گرہ لگانا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیااب چھوڑ بھی دو آپ یہ نفرت کی سواری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
دنیا سے جفاؤں کی یہ دیوار گرا کر
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہم کو تو بغاوت کے بہانے نہیں آتے
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ آپ بھی پڑھ لو نہ محبت کی کتابیں
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
یہ فرض ہے اب آپ بھی نفرت کو بھلا دو
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کھاتے ہیں سبھی مل کے محبت کی سپاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کہنے کو بنا پھرتا ہے الفت کا پجاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
ہو جائے گی اب دور جو نفرت ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
کچھ لوگ محبت میں بھی کرتے ہیں غداری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
بجھ جائے گی اب آگ جو سلگی ہے تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
سینچی ہے سدا خون سے یہ راہ تمہاری
’’اخلاص ہی اخلاص ہے الفت میں ہماری‘‘
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






