چاند
Poet: M.Z By: M.Z, karachiپورا دکھ اور آدھا چاند
حجر کی شب اور تنھا چاند
دن میں وحشت بیحل گئی تھی
رات ھوئی اور نکلا چاند
کس مقتل سے گزرا ھوگا
کتنا سھمہ سھمہ چاند
یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رھا ھے تنھا چاند
میری کروٹ پر جاگ اٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند
میرے منہ کو کس حیرت سے
دیکھ رھا ھے بھولا چاند
کتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنھا ھوگا چاند
آنسو رکے نور نھائے
دل دریا تن سھرا چاند
اتنے روشن چھرے پر بھی
سورج کا ھے سایا چاند
جب پانی میں چھرہ دیکھا
تو نے کس کو سوچا چاند
برگد کی ایک شاخ ھٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند
بادل کے ریشم جھولے میں
بھت وقت تک سویا چاند
رات کے شانوں پر سر رکھے
دیھک رھا ھے سپنا چاند
سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننھہ چاند
ھاتھ ھلا کر رخصت ھوگا
اس کی صورت ھجر کا چاند
صحرا صحرا بھٹک رھا ھے
اپنے عشق میں سچا چاند
رات کے شاید ایک بجے ھیں
سوتا ھوگا میرا چاند
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






