“مدر تھریسا“ حصہ اول
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIاے ماں تھریسا
مجھ کو تیری عظمت سے انکار نہیں ہے
جانے کتنے
سُوکھے لَب اور ویراں آنکھیں
جانے کتنے
تھکے بدن اور زخمی روحیں
کُوڑا گھر میں روٹی کا اِک ٹکڑا ڈھونڈتے ننگے بچے
فٹ پاتھوں پر گلتے سڑتے بُڈّھے کوڑھی
جانے کتنے
بے گھر، بے دَر، بے کَس انساں
جانے کتنے
ٹُوٹے، کُچلے، بے بَس انساں
تیری چھاؤں میں
جِینے کی ہمّت پاتے ہیں
ان کو اپنے ہونے کی جو سَزا مِلی ہے
اس ہونے کی سزا سے
تھوڑی سی ہی سہی
مہلت پاتے ہیں
تیرا لمس مسیحا ہے
اور تیرا کرم ہے اک سمندر
جس کا کوئی پار نہیں ہے
اے ماں تھریسا
مجھ کو تیری عظمت سے اِنکار نہیں ہے
میں ٹھہرا خود غرض
بس اِک اپنی ہی خاطر جِینے والا
میں تجھ سے کِس مُنہ سے پوچھوں
تو نے کبھی یہ کیوں نہیں پوچھا
کِس نے ان بدحالوں کو بدحال کیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






