لڑکیاں مر جاتی ہیں کتنی ہی ٹُھکرائی ہوئی
Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIآنکھ شرمائی ہوئی اور زلف بل کھائی ہوئی
ہونٹ پہ لالی گلوں کی چال اترائی ہوئی
دن بہاروں کے ہیں راتیں بھی ہیں مہکائی ہوئی
ہر ادا اسکی ستائش کی تمنائی ہوئی
خود کو آنچل میں چھپا کر سمٹی سمٹائی ہوئی
لڑکیاں گھر سے نکلتی ہیں یوں گھبرائی ہوئی
روح پر چرکے لگاتی ہے ہر ایک چبھتی نظر
یہ جوانی تو مصیبت ہے کوئی آئی ہوئی
شہر کے تاریک کوچوں میں ذرا دیکھو کبھی
بے کفن پھرتی ہیں کتنی لاشیں بولائی ہوئی
تار چاندی کے اُتر آئے حسیں زلفوں میں اور
سُرمئی آنکھوں میں مایوسی ہے در آئی ہوئی
آئینے کے سامنے خود سے یہ کرتی ہے سوال
کس سیاہی سے تو نے قسمت ہے لکھوائی ہوئی
کتنے سپنوں کی یہاں اُتری ہیں باراتیں مگر
ان گھروں میں نہ کبھی مہمان شہنائی ہوئی
ان کی قسمت میں اُجالے بھی ہیں کملائے ہوئے
چاندنی بھی اُتری ہے آنگن میں گہنائی ہوئی
اب نہیں آتے ہیں شہزادے بدلنے کو نصیب
لڑکیاں مر جاتی ہیں کتنی ہی ٹُھکرائی ہوئی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






