"قصور کی معصوم بیٹیوں کے نام"
Poet: ام بلال ریاض By: ام بلال, ریاضجب معاشرے میں برائیاں عام ہوتی ہیں
تو بیٹیاں اسی طرح رسوا سرِ عام ہوتی ہیں
بنت حوا کی زندگیاں بے بسی کے نام ہوتی ہیں
اسی طرح انکی زندگی کی شام ہوتی ہیں
ان خون آشام بھیڑیوں سے ھم انہیں کیسے بچائیں گے
جب ہمارے محافظ انکے ہاتھوں بک جائیں گے
کیوں کسی نے ان معصوموں کی چیخیں سنی نہ آہیں
یہ تو ایسا ظلم ہے کہ پہاڑ بھی حل جائیں
کتنا شور کرو گے پھر تم چپ ہوجاؤ گے
دبا کے ان معصوموں کو مٹی میں تم پھر سوجاؤ گے
ظلم درندوں کا ھے تو تمھارا بھی قصور ھے
خود اپنے ہاتھوں سے کیا تم نے انکو دور ھے
کیوں ان معصوموں کو اکیلا باہر بھیجتے ہو
اپنے ہاتھوں سے درندوں کے ہاتھ میں دیتے ہو
اگر نہ کی تم نے اپنے معاشرے سے دور برائی
تو اسی طرح ہوتی رھے گی معصوم بیٹیوں کی رسوائی
آج بنت حوا ہر طرف دیتی ہے یہ دھائی
کب ہو گی ہمارے اوپر کیئے گئے ظلموں کی سنوائی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






