سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanدوستو کی نزر!
سسرال کی دہلیز پہ آنکھیں نم رہتی ہیں
ہر سانس میں خاموش سی اک غم رہتی ہیں
وہ جو کبھی ماں کے آنگن میں ہنستی تھی کھل کر
اب اپنی ہی ہنسی سے بھی بے دم رہتی ہیں
رسموں کے اندھیرے میں جکڑی ہوئی اک لڑکی
اپنے ہی نصیبوں سے اکثر کم رہتی ہیں
نہ شکایت کی اجازت، نہ سہارا کوئی
بس صبر کی زنجیر میں پیہم رہتی ہیں
کبھی آنکھ سے ٹپکا جو آنسو تو چھپایا گیا
یوں درد کی دیواریں بھی باہم رہتی ہیں
“وشمہ” یہ کیسا جہاں ہے کہ خوشی روٹھ گئی
اور خواہشیں بس دل میں ہی مدہم رہتی ہیں
More Sad Poetry






