تاروں کے مسافر سنُ ، کچھ زیب نہیں دیتا
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaبھوُ لی ہوئی ا ک صو رت جب یا د کبھی آ ئی
سینے سے لگی شب بھر روتی رہی تنہائی
جلتے رہے ہونٹوں پہ سوُ کھے ہوئے افسانے
کھلتے رہے آ نکھوں میں اسرارِ شکیبائی
تاروں کے مسافر سنُ ، کچھ ز یب نہیں د یتا
ہر گام پہ کر تا ہے تو را ستہ پیما ئی
کمروں میں ا ندھیرا ہے ، سناٹا ہے آ نگن میں
آ ر ا م سے بیٹھی ہے د یو ا ر پہ تنہائی
د نیا سے نرا لی ہے قسمت کی لکیر ا پنی
ہر ہار پہ روتی ہے ، ہر جیت پہ شر ما ئی
رقصاں ہیں خیالوں میں پھولوں سے سجی غزلیں
با رات ہے خوشبو کی ، یا یاد تر ی آ ئی
آ دابِ محبت تو پیارے بڑے سادے تھے
لے ڈو بی ہے حضرت کو اَ فکا ر کی گہر ائی
ق
اس عالمی منڈی میں کاندھوں پہ لیئے پھریے
ا فلاس کی چا د ر میں لپٹی ہو ئی رُسو ا ئی
جس قو م کی قسمت میں بیما ر اُجالے ہیں
و ہ مانگتی پھر تی ہے ظلمت سے مسیحا ئی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






