غمِ زندگی تیرا شکریہ جو سوزِ دل عطا کیا،اچھا کیا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad غمِ زندگی تیرا شکریہ جو سوزِ دل عطا کیا،اچھا کیا
تیری چاہ نے مجھے پہر پہر درد آشنا کیا، اچھا کیا
جو خوش کیا تو خوش ہوا، جودکھ دیا تو چپ ہوا
تونے ساتھ میرےجو کیا ، اچھا کیا، اچھا کیا
آپ اپنی حسرتوں کا ہاتھوں سے اپنے خوں کیا
نہ کسی سے شکوہ کیا نا ہی کوئی گلہ کیا، اچھا کیا
جن راستوں کے ہوئی نذر ، رفاقتیں میری عمربھر
انہی راستوں نے قدم قدم آبلہ پا کیا ، اچھا کیا
منزلوں سے بے خبر ، ہوئی زندگی میری دربدر
چاہتوں نے تنہا کیا عشق نے رسوا کیا، اچھا کیا
تیرے درد نے تیرے کرب نےاے ہم نشیں
میرے جسم کو میری روح سےجدا کیا ،اچھاکیا
تو نےرختِ سفر کیا مجھے، یا رضا گردِسفر کیا
میں نے کب شکوہ کیاتو نے جو چاہا کیا، اچھا کیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






