ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﺩﺍﻍ ﮨﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﻣﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ
ﻧَﻘﺺ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﮮ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻮﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﺎﻧﺎ
ﺁﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﮮ ﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﮨﮯ ﻧﺴﯿﻢِ ﺑﮩﺎﺭ ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ
ﺧﺎﮎ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﺗﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺗُﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






