یہ کیسی محبت ہے میری
Poet: NS By: NS, Lahoreیہ کیسی محبت ہے میری
مجھے تم سے دور جانا ہے
تمہیں تھوڑا سا بھلانا ہے
تمہارا نام اپنی زندگی سے مٹانا ہے
قسمت میں اپنا ملن نہیں
یہ دل کو سمجھانا ہے
یہ کیسی مجبوری ہے میری
کیوں مجھے تم سے دور جانا ہے؟
کیوں مجھے تم کو بھلانا ہے؟
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
نہ تم کو پانا ہے
نہ تم سے دور جانا ہے
نہ تم کو بھلانا ہے
نہ تم کو یاد رکھنا ہے
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
جس کی یاد میں
صبح سے رات کر دیتے ہیں
اسی کو ہم یہ بات بتا نہیں سکتے
جس سے خیالوں میں
ہم محو گفتگو رہتے ہیں
اسی کو حقیقت میں
ہم پکار نہیں سکتے
جس کی دل کائنات پر حکومت ہے
اسی پر ہم تھوڑا سا بھی
حق نہیں رکھتے
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






