یہ کس روش پہ چل نکلا ہے مہرباں میرا
Poet: ibn.e.raza By: ibn.e.raza, islamabadزیر ِلب مسکرایا وہ دل دکھانے کے بعد
پھر ہوا محو ِتماشہ مجھے رُلانےکے بعد
اداسیوں کو بھی اُنس ہے مجھ سے اتنا
میرے قریب رہتی ہیں تیرے جانے کے بعد
ابر ِدیدہ سے بُجھاتا ہے اب شعلہ و شرر
میرے نشیمن پہ بجلیاں گرانے کے بعد
یہ کس روش پہ چل نکلا ہے مہرباں میرا
خود ہی روٹھ گیا مجھے منانے کے بعد
عالم ِوصل میں فرقتوں کا حساب مانگا تو
سنجیدہ سا ہو گیا وہ بڑبڑانے کے بعد
سنا ہے وہ بھی پریشاں رہتا ہے آجکل
مجھ سے یوں دُوریاں بڑھانے کے بعد
وہ میرا ہو سکا ، نہ میں اپنا ہی رہا
یوں پائی سزا میں نے دل لگانے کے بعد
بات تو جب تھی میری بھی سن لیتا
پھر نا جاتا فقط اپنی سُنانے کے بعد
متائے جاں بھی رضا نذر ِجاناں کر دوں
اُسے سکوں ملتا ہے گر دل جلانے کے بعد
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







