یہ میرا دل بہل جائے
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں ایسا کیا کروں جس سے یہ میرا دل بہل جائے
میں ایسا کیا کروں جس سے یہ میرا دل سنبھل جائے
یہ دل کہ جو تمہاری یاد میں غرقاب رہتا ہے
یہ دل کہ جو تمہارے ہی لئے بے تاب رہتا ہے
یہ میرا دل تمہارا نام لے لے کر دھڑکتا ہے
یہ میرا دل تمہاری یاد میں پل پل تڑپتا ہے
یہ میرا دل کہ جو تم سے ملے بن چین نہ پائے
یہ میرا دل کہ جو ہر دم تمہارا ساتھ ہی چاہے
یہ دل کہ جو تمہاری ہی محبت میں دیوانہ ہے
یہ دل کہ جو تمہاری چاہ میں مجھ سے بیگانہ ہے
یہ دل میرا ہے لیکن یہ تمہارا ہونا چاہتا ہے
تمہاری ذات کی پنہائیوں میں کھونا چاہتا ہے
تمہی کچھ دل کو سمجھاؤ تمہی اس دل کو بہلاؤ
بہل جائے سنبھل جائے تمہی اس دل میں آجاؤ
تمہارا ذکر سن سن کر دیوانوں سا مچلتا ہے
میرا نادان دل مجھ سے بہلتا نہ سنبھلتا ہے
میں ایسا کیا کروں جس سے یہ میرا دل بہل جائے
میں ایسا کیا کروں جس سے یہ میرا دل سنبھل جائے
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






