یہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
Poet: Sohail Abbas By: Muhammad Sohail Abbas, kot sultan(layyah)یہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
رونے بھی نہیں دیتیں
یادیں اُس کی رات بھر
سونے بھی نہیں دیتیں
دل بھی پاگل دل ہے میرا
اُسے کھونے سے یہ ڈرتا ہے
جو اِک دن ہو کر رہے گا
اُس ہونے سے یہ ڈرتا ہے
پلکیں کیسی پلکیں ہیں
دیکھتے ہی اُسے جھُک جاتی ہیں
سانسیں کیسی سانسیں ہیں
اُس کے آتے ہی جو رُک جاتی ہیں
نندیا کیسی نندیا ہے
اُس کے خواب دیکھتی ہے
ایک چھوڑ پھر یہ
بے حساب دیکھتی ہے
یادیں کیسی یادیں ہیں
کوئی کام بھی نہیں کرنے دیتیں
نہ ہی چین سے جینے دیتیں
نہ ہی ہیں یہ مرنے دیتیں
خواب بھی کیسے خواب ہیں اُس کے
اتنا مجھے ستاتے ہیں
نیند تو پھر نیند ہے یہ
جاگتے میں بھی آتے ہیں
دنیا کیسی دنیا ہے
مجھ کو اچھی نہیں لگتی
جتنا یقیں دلائے پھر بھی
مجھ کو سچی نہیں لگتی
لب کیسے لب ہیں میرے
سامنے اُس کے بول نہیں سکتے
جو ہے میرے دل کے اندر
اُس کے آگے کھول نہیں سکتے
یہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
رونے بھی نہیں دیتیں
یادیں اُس کی رات بھر
سو نے بھی نہیں دیتیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






