یوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UKیوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم
بے موت اپنے آپ کو مرنے نہ دیں گے ہم
پھر سے کیا ہے عہد کہ اب دِل کے شہر میں
یادوں کے کارواں کو ٹھہرنے نہ دیں گے ہم
اے دِل پرایٔ آگ میں جلنا بہت ہوا
اب اور کا کیا تجھے بھرنے نہ دیں گے ہم
اب کھل چکے ہیں ہم پہ سبھی آگہی کے در
خود کو کِسی کے جبر سے ڈرنے نہ دیں گے ہم
پتھر کی ہو نہ جایںٔ یہ آنکھیں بھی ایک دِن
دریا اِن آ نسوؤں کا اُترنے نہ دیں گے ہم
سُن اے امیرِ شہر ترا دور اب گیا
جو آج تک کیا تجھے کرنے نہ دیں گے ہم
مدُت کے بعد آپ سے ملنا ہوا نصیب
اِس پل کو روک لیں گے گذرنے نہ دیں گے ہم
عذراؔ بدلنے ہوں گے ہمیں اِسکے خدو خال
چہرا غمِ جفا کا نِکھرنے نہ دیں گے ہم
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






