ہواؤں کی سمت میں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, DUBAI- U.A.Eتاریکیوں کے راج کو بخشا گیا دوام
رکھے گئے چراغ ہواؤں کی سمت میں
کرنوں کا خون سوزن زنداں سے جب گرا
پروانے اڑ کے آئے جفاؤں کی سمت میں
پھانسا گیا تھا جال میں ظلمت کے نور کو
جگنو بھٹک رہے تھے خطاؤں کی سمت میں
پابندیوں کا قہر تھا خیالوں کی راہ پر
جذبے مچل رہے تھے صداؤں کی سمت میں
ہر گام پر کھڑے تھے واں جلاد بے نیام
پھر بھی قدم اٹھے تھے وفاؤں کی سمت میں
زخموں سے چور چور بدن لے کے عشق میں
عشاق بڑھ رہے تھے اداؤں کی سمت میں
وہ التجائیں سن کے بھی پلٹے نہیں کبھی
اشہر کیوں تک رہے ہو دعاؤں کی سمت میں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






