ہمیں رونا بھی آتا ہے دکھ دھونا بھی آتا ہے
Poet: محمد اطہر طاہر ہارون آباد By: Athar Tahir, Haroonabadﮨﻤﯿﮟ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﮐﮫ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﭘﮧ ﮨﻢ ﺁﺋﯿﮟ
ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﯽ ﺑﮩﺎﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺑﻨﯿﺎﺩﯾﮟ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ
ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺗﯿﺮﯼ ﻓﺮﻋﻮﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮩﺎﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﮨﻤﯿﮟ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﮐﮫ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ
ﺩﻟﻮﮞ ﭘﮧ ﺿﺮﺏ ﮐﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﺭﻭﻧﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﭘﮧ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﮯ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






