ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے
وہ رو ہی دیا مُجھ کو بُجھا دیکھتے ہوئے
ہم وہ کہ کبھی وقت سے بھی ہار نہ مانیں
برباد کِیا آپ نے کیا دیکھتے ہوئے
انجان علاقہ تھا، کِیا میں نے تعیُّن
قِبلے کا، فقط قِبلہ نُما دیکھتے ہوئے
مرمر تھا ماں کی قبر پہ نہ باپ کی کبھی
چھلکی ہے آنکھ کتبہ لگا دیکھتے ہوئے
سو جانا چاہیئے کہ نہِیں شب کا جاگنا
اچھّا، وہ شب کا ایک بجا دیکھتے ہوئے
کل تک جو مِرے ایک اِشارے پہ فدا تھے
مُنہ پھیر گئے وقت بُرا دیکھتے ہوئے
بوسِیدہ ہو کے چاک ہوئی ہے جگہ جگہ
مزدُور کے جو تن پہ قبا، دیکھتے ہوئے
بھائی کی یاد آئی ہے بے ساختگی کے ساتھ
بیریں کا پیڑ گھر میں لگا دیکھتے ہوئے
لوٹ آ تو مِرے دوست ترے بعد تِری بزم
نمناک ہوئی آنکھ سجا دیکھتے ہوئے
اللہ کا تُو شُکر ادا کر کہ نہیں ہے
تذلِیل نہ کر، اُس کو گدا دیکھتے ہوئے
بیٹی جو کہہ دیا ہے تُجھے، دل سے کہہ دیا
حسرتؔ ہے سر پہ ہاتھ حیا دیکھتے ہوئے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






