گلشن نہ سہی میرے لیے ،بیاباں تو نہ ہو
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadنالاں بھلے ہو مجھ سے، گریزاں تو نہ ہو
گلشن نہ سہی میرے لیے ،بیاباں تو نہ ہو
ہر چند خطا مجھ سے کہیں کوئی تو ہوئی ہو
یوں نیت پہ مگر میری ،بدگماں تو نہ ہو
فرطِ شوق میں غمِ دنیا کی طرح مجھ سے
اےحسرت ِ دل، دست و گریباں تو نہ ہو
سبھی عارضے ہی عارضی ہیں مسیحا میرے
اپنی ہی عنایات پہ ، نوحہ کناں تو نہ ہو
ماناہے کہ دل شکستہ ہو دل وحشی مگر
روزِ محشر تو نہ ہو ،شبِ امتحاں تو نہ ہو
اےحال ِ دل ، دل میں ہی رہ تو اچھا ہے
آنکھوں میں اُتر کر ،دنیا پہ عیاں تو نہ ہو
پروانہ جلے نہ ، تو کرےبھی اور کیا
اے جمالِ دل فروز ،یوں حیراں تو نہ ہو
بن ہی گئے ہواگر میری آنکھ کی زینت
پلکوں پہ ہی تھم جاو ، اشکِ رواں تو نہ ہو
تُو کسی اور کا نورِ نظر ہے رضا تو
بربادی ءدل ِ ناداں کا ساماں تو نہ ہو
تھا کس نےکہا تجھ سے،بھنور میں اترو
اب یہ گریہ تو نہ کر ، پشیماں تو نہ ہو
ڈالی ہے مشکل سے اذیت کی خو ُ میں نے
زندگی روش نہ بدلو، مجھ پہ آساں تو نہ ہو
بے حساب باقی ہیں نشیب و فراز ابھی
ابتدائے عشق میں ہی نِیم جاں تو نہ ہو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






