گلزارِ درد

Poet: رحمان درد By: Abdul Rehman, Tando adam

کون کہتا ہے مے کشی ہے حرام
یہ سنا تھا کہ بے خودی ہے حرام

کس طرح لوگ خون پیتے ہیں
آدمی پر تو آدمی ہے حرام

یوں رہا ملنے سے خدا تم کو
عشق نہ ہو تو بندگی ہے حرام

آج سرخی لگائی ہے اس نے
میرے ہونٹوں پہ تشنگی ہے حرام

ایک پل چین کا نہیں ملتا
عاشقی میں تو زندگی ہے حرام

تم سے مل کر مجھے خوشی ہے وہ !
مر نہ جاؤں کہ خودکشی ہے حرام

تیری آنکھوں سے یہ ہوا معلوم
کس لیے مےکشی ہوئی ہے حرام

گھر کے سارے چراغ گُل کر دو
شبِ فرقت میں روشنی ہے حرام

تیوری کیوں چڑھائی ہے تم نے
حسن والوں پہ بے رخی ہے حرام

صرف ذکرِ شباب اور ساغر
دردؔ تیری تو شاعری ہے حرام

Rate it:
Views: 1
22 Jul, 2026