گردش ِ دوراں سے میری جاں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadگردش ِدوراں سے میری جاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
زندگی ہوتی نہیں ہےآساں ، پریشاں نہ ہوا کیجیے
کچھ لمحے ہی جی لینے دیں اس بزم ِجہاں میں
چند گھڑیوں کے ہیں مہماں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
محض کہہ دینے سےہی یادیں نہیں مٹتی دل سے
یہ بات ہے خارج از امکاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
اپنی کشتی کو لہروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا
کرلے جو کرسکتا ہے طوفاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
کون کہتا ہے کہ تھم جاتی ہے کسی کے جانے پہ
زندگی تو رہہتی ہے رواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
در ایک بند ہوا، تو کیا ہے سو کُھل بھی گئے ہیں
وقت بھی ہوجائے گا مہرباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے
خدا کی دھرتی بہت وسیع ہے یہ بد گمانی کیسی
کہیں تو مل جائے گا سائباں،پریشاں نہ ہوا کیجیے
دل ہے تو درد بھی ہوگا ، آنکھ ہے تو آنسو بھی
یونہی چلتا رہے گا کارواں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
خودی کو عشق میں اِس درجہ فنا کردوں گا رضا
مٹ جائے گا میرا نام و نشاں، پریشاں نہ ہوا کیجیے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






