کیوں موت کے خواب سجا لیے آنکھوں میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیوں موت کے خواب سجا لیے آنکھوں میں
ابھی تو زندگی ہم سے ملی بھی نہیں
کیوں ٹوٹ کے چاہا ُاسے اس طرح لکی
کہ چاہیت کو بندگی ملی بھی نہیں
پتھر کے ُبت پے یہ اعتبار کی نشانی ہیں
ریزہ ریزہ ہوئی میری ذات اور پیار کی اک بوند ملی بھی نہیں
کانٹوں میں کیسے بسر کی ہو گئی زندگی ُاس نے
جس بد نصیب کو پھولوں کی اک شام ملی بھی نہیں
ہاں ! ہم نے جینے کے خواب دیکھے تھے لکی
مگر اک مددت سے نیند ہمیں ملی بھی نہیں
میں ُاس پرندے کو کس طرح ُاڑا دوں
پر ہونے کے باوجود آزادی جیسے ملی بھی نہیں
رونقیں میسر ہو گئی تمہیں جاناں
اندھیروں کے بعد روشنی ہمیں ملی بھی نہیں
تیرے اک انکار نے میرا تخت ہی پلٹ دیا
پھر ہمیں ویسی شہنشائی کہیں ملی بھی نہیں
میری روح تجھ میں ہیں پھر تجھ سے گلہ کیا کرتی
بچھڑ کے تجھ سے ہمیں آب حیات کہیں ملی بھی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






