کیسے بھول سکتا ہوں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanوہ گزرے حسیں پل میں کیسے بھول سکتا ہوں
آنکھوں کے دریچے میں بسی خوشیاں میں کیسے بھول سکتا ہوں
مجھے تم سے زیادہ چاہت کیا کسی اور سے ہو سکتی ہے
میرے دل پر نقش صورت میں کیسے بھول سکتا ہوں
میں جب بھی بے قرار ہوتا ہوں تیری یادیں سہار لیتی ہیں
گزرے پلوں کی خوشیاں میں کیسے بھول سکتا ہوں
بہار کے موسم میں تیرا اور پھولوں کا ساتھ کتنا پُر بہار ہے
میرے اردگرد پھیلی وہ خوشبوئے محبت میں کیسے بھول سکتا ہوں
ساون تیری موجودگی سے کیسا پُر مسرت دکھائی دیتا ہے
تیری پلکوں پر ٹھہرے نمی کے قطرے میں کیسے بھول سکتا ہوں
تیرے ساتھ بیتا ہر پل انمول ہے کتنا کیسے بیان کروں
آنکھوں میں کٹی راتیں وہ بے تاب برساتیں میں کیسے بھول سکتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






