کیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کانٹوں پے چلتا دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اندھرے میں روتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوتنہائیوں میں بات کرتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوخود سے لڑتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوشیشے کی طرح ٹوٹتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو غموں میں مسکراتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو باتھوں سے لکیر مٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنی خوشیاں لوٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کسی کہ لیے دنیا بھلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنے خواب جلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو زندگی سے بھاگتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






