کھلے ہیں شوق کے در ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaکھلےُ ہیں شوق کے دَر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
تم آ بھی جاوْ اِدھر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
لیا بہار نے بوسہ تمہارے قدموں کا
تبھی تو راہ گزر پھول بھی ہے خوشبو بھی
ہے مست مست ہوا ، تتلیوں کا رقص بھی ہے
کہ آج پیشِ نظر پھول بھی ہے خوشبو بھی
وفا کی راہ میں یہ کیا حسیں مقام آ یا
گزر رہی ہے سحر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
بسی ہے یوں تری صورت ہماری آ نکھوں میں
جدھر جدھر ہے نظر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
تمہارا ہاتھ جو آ ئے ہمارے ہاتھوں میں
تو زندگی کا سفر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
قر یب آ ئے ہیں دو دل زمین پر جب سے
نظامِ شمس و قمر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
اُٹھا اے دیدہء بیباک لطفِ نظاّرہ
جھکی جھکی سی نظر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
حسین تر ہے یہ اِعجاز تیرے نشتر کا
کہ زخم زخم جگر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
جو چوم لیں مرِے اَشعار سرخ ہونٹوں کو
تو شاعری کا ہنر ، پھول بھی ہے خوشبو بھی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






