کچھ روز سے لفظوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبے تاب موسموں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
آ جاؤ آئینوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
اے رشک بہاراں ذرا قدموں کی چاپ دو
مہتاب کی کرنوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
آیا ہے ترا ذکر ہی شاید بہار میں
وحشت سے کونپلوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
اے ندرت خیال ! ذرا بزم آرائی
کچھ روز سے لفظوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
اٹھتی سحر کے حسن پہ دل جھوم کے بولا
آفاق پہ لمحوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
دیکھو گے اپنا عکس تو کھل جائے گی گتھی
کیوں چاند ستاروں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
بھولے سے اب انہیں بھی ذرا چھو ہی لیجئے
شبنم اٹے گلوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
کچھ دید عطا کیجئے انکو بھی ذرا سی
کچھ کیجئے پلکوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
لکھئے نہ میرا نام درختوں کی چھال پر
مانوس درختوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
لگتا ہے تیرے ہاتھ کی مہندی میں ڈوب کر
قسمت کی لکیروں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
میں جا رہا ہوں انکی ذرا پیاس بجھانے
تقدیر کے شعلوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
بادل کو برسنا ہے اسے اسکی خبر کیا
پھولوں کا یا کانٹوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
اک لمحہ وصال کی وسعت کو سوچ کر
آتی ہوئی صدیوں کا بدن ٹوٹ رہا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






