کون کہتا ہے؟ مارچ اپریل کے دن بھی
Poet: By: Dilkash Mariam, chiniotمارچ اپریل کے دن بھی
کتنے عجیب ہوتے ہیں
جب جب پھول کھلتے ہیں
دل مرجھانے لگتے ہیں
کچھ بچھڑے لوگ یاد آنے لگتے ہیں
یوں تو ہری بہار میں
ہر طرف خوشبو ہوتی ہے
دل کو نجانے کس کی جستجو ہوتی ہے
جب بھی یہ مہکی فضائیں آتی ہیں
گزرا وقت یاد دلاتی ہیں
یہ جو ہر طرف گل کھلے ہوتے ہیں
دل میں یادوں کے نشتر چھبوتے ہیں
کون کہتا ہے؟
کہ بہاریں خوشیاں لاتی ہیں
یہ تو اداسیوں سے دامن بھر جاتی ہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






