کون پھر سے بلا رہا ہے مجھے
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiکون پھر سے بلا رہا ہے مجھے
خواب جھوٹے دکھا رہا ہے مجھے
کون بیٹھا ہے میری راہوں میں
" دیکھو صحرا پکارتا ہے مجھے"
مجھ سے رہتا ہے دور وہ اکثر
اور یوں وہ آزما رہا ہے مجھے
ایک مدت کے بعد بھی آخر
اجنبی کی طرح ملا ہے مجھے
اپنی باتوں سے پھر گیا ہے وہ
بس اسی بات کا گلہ ہے مجھے
اس کی جانب نہیں میں پلٹوں گا
وہ اب اتنا تو جانتا ہے مجھے
بات یہ بھی تو اک حقیقت ہے
صبر کرنے کا حوصلہ ہے مجھے
اپنا اب بھی وہ مانتا ہے مجھے
میری چاہت کا یہ صلہ ہے مجھے
ساری دنیا میں ڈھونڈ آیا ہوں
تجھ سا کوئی نہیں ملا ہے مجھے
خوب واقف ہوں تیری باتوں سے
کیوں تو الفت جتا رہا ہے مجھے
کیا کہوں تیری اس ادا کو میں
خود ڈبو کر بچا رہا ہے مجھے
کتنا نادم کھڑا ہے ساحل پر
جو بھنور میں پھنسا رہا ہے مجھے
کب تلک ساتھ تم نبھاؤ گے
اب نہیں کوئی آسرا ہے مجھے
اب کہاں حوصلہ وہ پہلے سا
پھر بھی اتنا رلا رہا ہے مجھے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






