کن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی
Poet: احمد شہریار By: Asher, Rawalpindiکن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی
پل میں بقا کا پل میں فانی مٹی آگ ہوا اور پانی
نگری نگری پھرتی ہیں یہ دیواریں بھی ساتھ ہی میرے
کرتے ہیں میری نگرانی مٹی آگ ہوا اور پانی
خاک بسر ہوں شعلہ بجاں ہوں آہ کناں ہوں اشک فشاں ہوں
دیکھ تو اپنی کارستانی مٹی آگ ہوا اور پانی
میرا کیا ہے مر جاؤں گا چاروں اور بکھر جاؤں گا
آپ کہاں جائیں گے جانی مٹی آگ ہوا اور پانی
میں کبھی شعلہ ہوں کبھی شبنم گاہے زخم تو گاہے مرہم
کرتے ہیں مجھ میں کھینچا تانی مٹی آگ ہوا اور پانی
میں آئینہ دیکھ رہا ہوں لیکن یہ کیا دیکھ رہا ہے
میرا عکس پس حیرانی مٹی آگ ہوا اور پانی
عشق کی نسبت سے ہیں زندہ صحرا سورج بادل دریا
عشق نہیں تو سب بے معنی مٹی آگ ہوا اور پانی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






