کتنے خواب امر ہوتے محبت کے افسانے میں
Poet: محسن شاہ By: Mohsin Shah Hashmi , Sharjahکتنے خواب امر ہوتے ہیں محبت کے افسانے میں
کس نے یہ کردار لکھے ہیں خواب نگر افسانے میں
لہجہ اس کا کوئل جیسا آنکھیں ہرنی جیسی لیکن
ان میں میرا عکس نہیں تھا یہ کیا ہے افسانے میں
ہجر فراق کے رستے تہہ تھے گوہ کہ کچھ دشواری تھی
کس نے کس کو چھوڑ دیا تھا لکھ دینا افسانے میں
مجھ کو امیدیں تھیں اور،ناز تھا اس کے ضبط پہ لیکن
اپنی ذات سے خائف تھا وہ دو دن کے افسانے میں
اتنے جزبے قتل ہوئے اور پھر بھی منزل مقتل ٹھہرا
سب سے آچھا موڑ دیا تھا اس نے اس افسانے میں
اب کے بار جو لکھو تم،بھول نہ جانا دِلِ مُضْطَر کو
میرے درد کا درماں وہ تھا اس سارے افسانے میں
More Sad Poetry






