کبھی بےوفا نا لکھنا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaرات لکھنا مگر
اندھرہ نا لکھنا
روشنی لکھنا مگر
چاند نا لکھنا
غم لکھنا مگر
خوشیوں کا سماء نا لکھنا
دوشمن لکھنا مگر
دوست کا انداز نا لکھنا
زمین لکھنا مگر
آسمان نا لکھنا
کانٹے لکھنا مگر
گلاب نا لکھنا
جسم لکھنا مگر
جان نا لکھنا
آرزو لکھنا مگر
ارمان نا لکھنا
دعا لکھنا مگر
التجاء نا لکھنا
آنکھ لکھنا مگر
برسات نا لکھنا
صحرا لکھنا مگر
پیاس نا لکھنا
دن لکھنا مگر
شام نا لکھنا
ساتھ لکھنا مگر
تنہائی نا لکھنا
کوئل لکھنا مگر
اجڑا باغ نا لکھنا
خطاء لکھنا مگر
عطاء نا لکھنا
وقت لکھنا مگر
انتظار نا لکھنا
راستہ لکھنا مگر
منزل کا ناموں نشان نا لکھنا
جاناں ! اپنے صرف
تین لفظ لکھنا مگر
سارا نصاب نا لکھنا
مجھے جب بھی لکھنا
گناہ گار لکھنا مگر
کبھی بےوفا نا لکھنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






