پھر کوئی تارا گرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississaugaپھر کو ئی تا را گرا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
سو چ کر پھر د ل بر ا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
یہ تو ممکن ہے کہ کو ئی ا و ر ہو پیشِ نظر
ذ ہن میں بھی د وسرا ہو ، یہ ضرو ری تو نہیں
و یسے تو پھر سے ہمیں ہنسنا سکھا یا و قت نے
ز خمِ د ل بھی بھر گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
آ نکھ ملنےَ کے لیے کچھ تو بہا نہ چا ہئے
آ نکھ میں کچھ پڑ گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُ س سے و ہ ا چھے مرا سم نہ سہی پر دوستو
ہم بھلے او ر و ہ برُا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
طیش میں بیٹھے ہیں جتنا آ پ اُس سے رُوٹھ کر
و ہ بھی اِ تنا ہی خفا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو ا بتک تمہا ری راہ تکتی ہے نظر
د ل کو بھی کچھ آ سرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ایک مصر عے سے جڑا ہو دوسرا مصرعہ کو ئی
ہم و ز ن ہم قا فیہ ہو ،إإإإ یہ ضروری تو نہیں
شا عر ی کیجئے مگر ہر شعر میں ا س شخص کی
بے و فائی کا گلا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُسکے بارے میں بہت کچھ شاعری میں کہہ دیا
لیکن ہم نے سچ کہا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
گرچہ ہم نے آپ سے ترکِ تعلق کر لیا
پر ہمیں اچھا لگا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو بیٹھے ہیں انور دوستوں کے درمیاں
دل بھی ا نکا لگ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






