پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
Poet: Zoya rabnawaz By: Zoya rabnawaz, rawalpindiپاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
کہ جسے اپنی گود میں بڑے پیار سے پالا تھا
کہ جسے بڑے پیار سے چلنا سکھایا تھا
کہ جسکی ننی آنکھوں میں سہانے سپنے بنے تھے
پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
وہ اپنے وجود کی تلاش میں کہیں کھو گئی ہے
اب اسکی آنکھوں میں نہ نیند ھے نہ سپنے
دنیا کی بے رخی نے اس کے پروں کو مسل دیا ہے
پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
آپ کی دعاؤں نے اسے ڈگمگانے نہ دیا ہے
لوٹ آؤ کہ آج بھی اس کی نظر چوکھٹ پر جمی ہے
وہ پکڑ کر ہاتھ آپکا پھر سے اڑنا چاہتی ہے
پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی








