وہ جو کل تک وفا کا پیکر تھا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiوہ جو کل تک وفا کا پیکر تھا
آج کیوں اس کے ہاتھ پتھر تھا
اس لئے اس پہ آن دل ٹھہرا
وہ بھرے شہر سے جو ہٹ کر تھا
سر پہ باندھے کفن میں چل نکلا
سامنے گو عدو کا لشکر تھا
ترس پانی تجھے نہیں آیا
ہاۓ کتنا پیاسہ اصغر تھا
غمزدہ مجھ کو روتے ہیں یونہی
غم کے ماروں کا میں قلندر تھا
یاد آۓ تو خوں رلاۓ مجھے
اس سے بچھڑن کا وہ جو منظر تھا
میرا بن کر جو ڈس گیا مجھ کو
آدمی تھا یا کوئی اجگر تھا
لمس اس کا بتا گیا مجھ کو
پھول چہرہ بھی کتنا پتھر تھا
مجھ سے بڑھ کر ہیں درد کس کو ملے
کون مجھ سے بڑا سکندر تھا
چھوڑ کر وہ گیا مجھے جس دن
وہ بھی دن میرے لیئے محشر تھا
کوئی بھی میرا بن نہیں پایا
عیب ایسا تو میرے اندر تھا
آج کل کیوں نظر نہیں آتا
وہ جو مل جاتا مجھ کو اکثر تھا
اجنبی ہوں میں آج اس کلۓ
کل تلک جس کا میں ہی دلبر تھا
پیار بن کر جو آج ابھرا ہے
وہ تو صدیوں سے دل کے اندر تھا
درد میں یوں بھی خوش ہوں میں باقر
درد سہنا مرا مقدر تھا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






