نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
Poet: سکندر عرفان By: سکندر, Kolkataنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
زندگی اپنی لگے راہ گزر کی صورت
خدمت خلق کا جذبہ لئے ہر موسم میں
مجھ کو رہنا ہے بہرحال شجر کی صورت
خشک پتوں کی طرح صحرا نوردی میں رہے
ہم نے مدت سے کہاں دیکھی ہے گھر کی صورت
ہیں تعاقب میں مرے جھوٹی انا کے سائے
کاش ہو جائے کوئی ان سے مفر کی صورت
بوڑھے ماں باپ نے رشتوں کے حسیں میلے میں
کھو دی ہے جانے کہاں لخت جگر کی صورت
وہ بنا پائے نہ عرفانؔ اجالوں میں شناخت
جو تھے مشہور اندھیروں میں قمر کی صورت
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






