نہ میرا ذوق عاشقانہ، نہ میرا شوق والہانہ
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadنہ میرا ذوق عاشقانہ، نہ میرا شوق والہانہ
میرا دل رموزِ دل لگی سے ہوسکا آشنا نہ
تیری نگاہ ِ نور سے دور ہوکر میرے حبیب
میری جاہء اماں کہیں نہ ، میراکوئی نہ ٹھکانا
تیری بندہ پروری سے دھڑکنیں رواں ہیں
کیا عجب سرورِ زندگی ہے تیرا عشقِ معجزانہ
دردِ دل کی دوا کیا ہے،تیری دید کے سِوا
سب تجھ کو پتا ہے، اب تجھ سے کیا چھپانا
سنا ہے اُلفت ہے پشیماں کےعفو سے تجھ کو
تیرا فاصلے بڑھانا،ہےمیری خطا کا شاخسانہ
بے نور نگاہ و دل کی رضا ہو کچھ تو تشفی
ہوجائے عطا مجھ کو، جو اِک نظرِطائرانہ
کبھی خلوتوں کو میری جلوہ ء نور عطا کر
بس یہی التجا ہے تجھ سے میری عاجزنہ
حسنِ زیست ہےتیرے لطف و کرم سے
ہردل میں جاوداں ہے تیراوجودِ غائبانہ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






