میں نے نغموں میں عیاں کی ہے محبت جاناں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanمیں نے نغموں میں عیاں کی ہے محبت جاناں
اور اظہار کی کوئی نہیں صورت جاناں
تیری رسوائی گوارا نہیں مجھ کو لیکن
اپنےاحساس کو ہونٹوں میں دبا سکتا نہیں
میں نے چاہا تو بہت دل میں چھپا ہی رکھوں
پر تراپیار زمانے سے چھپا سکتا نہیں
کھل ہی جاتی ہے زمانے پہ حقیقت جاناں
میں نے نغموں میں عیاں کی ہے محبت جاناں
تیر ے اس ریشمی آنچل کے تقدس کی قسم
تیری معصوم اداؤں کا خریدار نہیں
میں کہ خوشبو سی محبت پہ یقیں رکھتا ہوں
چند حسیں لمحوں کو پانے کا طلب گار نہیں
صرف الفت نہیں تجھ سے ہے عقیدت جاناں
میں نے نغموں میں عیاں کی ہے محبت جاناں
تیری سانسوں کی ہے خوشبو کہ گلابوں کی مہک
تیری آنکھوں میں کسی جھیل کی گہرائی ہے
تیرے عارض کو جو دیکھوں تو گماں ہوتا ہے
جیسے جنت سے کوئی حور اتر آئی ہے
میری د نیا کو بنا دے مری جنت جاناں
میں نے نغموں میں عیاں کی ہے محبت جاناں
اور اظہار کی کوئی نہیں صورت جاناں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






