میری محبّت میں زوال آیا ہے
Poet: محسن رضا ناریک By: Mohsin raza nariek , Salalahمیری محبّت میں زوال آیا ہے
دیکھو، آج اُسے بھی جلال آیا ہے۔
جو تاروں کی باتیں کیا کرتے تھے،
آج اُن کی باتوں کا یہ حال آیا ہے۔
وہ ماضی ہے، میں حال ہوں…
مجھ پر ہی ملال آیا ہے۔
یہ حُسن، جوانی، یہ مہخانے— چار دن،
نہ آیا… نہ آیا… نہ کوئی جمال آیا ہے۔
تِری صُحبَت میں جو بھی آیا محسن—
خاطر خواہ میں زندگی گھُل آیا ہے۔
More Love / Romantic Poetry






